Home / International News / Attack on Peshawar’s Bacha Khan University killed 20 people including Professor

Attack on Peshawar’s Bacha Khan University killed 20 people including Professor



loading...

Attack on Peshawar’s Bacha Khan University killed 20 people including Professor

 باچا خان یونی ورسٹی میں دہشت گردوں کے حملے میں ایک پروفیسر اور 13 طلبا سمیت 20 افراد شہید اور 50 .سے زائد زخمی ہوگئے جب کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 4 حملہ آور بھی مارے گئے

Peshawar University prmsaary anniversary of nationalist leader, Khan was arranged for the participation of students, teachers and staff of the large number of fire that suddenly began to hear voices also were heard.

According to reports received from the University bhgdrmc after the incident, the students in their classes and students by acts got swept in a dormitory are enclaves.

Security forces surrounded the University of Peshawar and bilateral exchange of fire lasted Given the seriousness of the situation, the army was summoned immediately The active Army forces inside the university buildings are high, controlled and fully respond to the university attack killed four terrorists.

According to the provincial government attack prufysrhamd Hussein and 13 students of the University were killed when a total of 20 people were killed and over 50 injured.

The bodies of the killed persons were shifted to DHQ Hospital Charsadda. Victims of terrorist bullets, including Assistant professor hamid Hussein in the UK came to Pakistan.

یونی ورسٹی میں کیمسٹری کے استاد تھے۔ سانحے میں شہید ہونے والے طلبا میں عمران ولد سعیداللہ، شہزاد ولد فضل ربی، احمد کمال ولد کمال الرحمان، حیدرعلی ولد منتظم خان، کامران ولد مبارک زیب، فخرعالم ولد شاہ حسین، سید کمال ولد سید بلال، عبدالماجد ولد بدرالزماں، صدیق ولد میرافضل، نعمت اللہ ولد دخترخان، محمد الیاس ولد غلام امین، ساجد ولد زمین شاہ، سجاد ولد صالح محمد شامل ہیں۔ جب کہ شہید ہونے والوں میں ایک ڈرائیور رحمان اللہ ولد بہادر اور 2 نامعلوم افراد بھی شامل ہیں۔

Attack on Peshawar's Bacha Khan University killed 20 people including Professor

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چارسدہ یونی ورسٹی میں حملے کے بعد پاک فوج کے دستوں نے پہنچ کر پوزیشنیں سنبھالی اور بلند عمارت سے اسنائپرز نے چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا جب کہ آپریشن کی فضائی نگرانی بھی کی گئی جس کے بعد یونیورسٹی کے تمام بلاکس میں کلئیرنس آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

چارسدہ یونی ورسٹی میں حملے کے بعد شہرکے دیگرتعلیمی ادارے بھی بند کردیئے گئے ہیں جب کہ مردان کی عبدالولی خان یونی ورسٹی کو بھی بند کردیا گیا۔ باچا خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈآکٹرفضل الرحیم نے ایکسپریس نیوزسے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 3 ہزارکے قریب طالب علم اور600 مہمان یونیورسٹی میں موجود ہیں جب کہ فائرنگ باہرسے کی جارہی ہے اور مسلح افراد دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اندر داخل ہوئے ہوں۔

دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز چارسدہ سعید وزیرکا کہنا ہے کہ حملہ آوردو ٹولیوں کی شکل میں یونیورسٹی میں داخل ہوئے، ایک ٹولی نے یونیورسٹی کے گیٹ پر تعینات نجی گارڈ کو گولیوں کا نشانہ بنایا جب کہ دوسری ٹولی دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دیوارسے چھلانگ لگا کریونیورسٹی کے اندر داخل ہوئی تاہم اطلاع ملنے پر مقامی پولیس نے بلاتاخیرپہنچ کر کسی بھی آرڈر کے بغیر یونیورسٹی کا محاصرہ کیا اور آپریشن شروع کیا جب کہ پولیس کے 2 سب انسپکٹراگرجلد کارروائی نہ کرتے تو مزید نقصان کا خدشہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے اپنے 54 نجی گارڈز سیکیورٹی پر مامور تھے جنہوں نے حملہ آوروں کے داخلے کے فوری بعد کارروائی کی جب کہ دہشت گرد اپنے ہمراہ 2 خودکش جیکٹس بھی لائے تھے جنہیں قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

چارسدہ یونی ورسٹی کے ایک ملازم کا کہنا ہے کہ دہشت گرد یونی ورسٹی کے پچھلے حصے سے اندرداخل ہوئے اوراس مقام کی جانب جانے کی کوشش کی جہاں طلبا کے لئے تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا تاہم دہشت گردوں کی فائرنگ کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا اور جسے جہاں جگہ ملی وہ وہاں چھپ گیا۔

یونیورسٹی پر حملے کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے کل بھر میں یوم سوگ کا اعلان کیا ہے جب کہ اس موقع پر ملک بھر کے علاوہ بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں بھی قومی پرچم سرنگوں رہے گا، خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے بھی واقعے پر 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جب کہ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے یوم سوگ کی حمایت کی گئی ہے اور وزیراعظم آزاد کشمیر نے بھی 2 روزہ یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یارولی، امیر جماعت اسلامی سراج الحق،قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین، وزیراعلی پنجاب شہبازشریف، سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الہیٰ اوردیگر سیاسی رہنماؤں نے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پشاور کے کارخانو بازار میں خاصہ دار فورس کی چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں متعدد اہلکاروں سمیت 12 افراد جاں بحق اور 39 زخمی ہو گئے تھے۔

 



About [email protected]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *